رام اللہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی جیل میں نام نہاد انتظامی حراست کے تحت پابند سلاسل فلسطینی اسیر بلال ذیاب نے حراست کے خلاف بہ طور احتجاج شروع کی گئی بھوک ہڑتال معطل کردی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسیر بلال ذیاب مسلسل 23 روز تک بھوک ہڑتال جاری رکھی۔ ان کے اہل خانہ نے بتایا کہ بلال نے بھوک ہڑتال اسرائیلی انتظامیہ کی طرف سے انتظامی قید میں مزید توسیع نہ کیے جانے کی یقین دہانی کے بعد ختم کی ہے۔خیال رہے کہ خیال رہے کہ32 سالہ بلال ذیاب 18 جنوری 2017ء سے اسرائیلی جیلوں میں انتظامی حراست کی پالیسی کے تحت قید ہیں۔
یہ ان کی پہلی گرفتاری یا بھوک ہڑتال نہیں۔ سنہ 2012ء میں انہوں نے 78 دن تک مسلسل انتظامی قید کے خلاف بھوک ہڑتال کی تھی۔
فلسطینی اسیران کی انتظامی حراست کی دی گئی سزاؤں میں تین ماہ سے چھ ماہ کی قید شامل ہے۔ یہ سزائیں حتمی نہیں بلکہ ان میں باربار توسیع کی جاسکتی ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے محض شبے میں فلسطینی شہریوں کو گرفتار کرکے انہیں قابل تجدید سزائیں دینے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ صیہونی حکام اس ظالمانہ سزا کو انتظامی قید قرار دیتے ہیں۔ اس کا کم سے کم عرصہ تین ماہ اور زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک ہوتا ہے مگر اس میں صیہونی حکام کی منشاء کے مطابق بار بار توسیع کی جاسکتی ہے۔ اس طرح بعض فلسطینیوں کو کئی کئی سال تک اس ظالمانہ سزا کے تحت پابند سلاسل رکھا جاتا ہے۔
اسرائیل کی 22 جیلوں میں کم سے کم 6500 فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔ ان میں 500 قیدی انتظامی حراست کی پالیسی کے تحت پابند سلاسل ہیں۔
