فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ہفتے کی شام سلوان قصبے میں سیکڑوں شہریوں نے اسیران کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ریلی نکالی۔ اس موقع پر پولیس اور فوج نے ریلی کے شرکاء کو منتشر کرنے کے لیے ان پرلاٹھی چارج کیا، آنسوگیس کی شیلنگ کی اور صوتی بموں سے حملے کئے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ صہیونی حکام نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے بے رحمی سے طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں کئی شہری لہو لہان ہوگئے۔
رپورٹ نے مطابق مظاہرے میں شریک بیت المقدس کی سماجی کارکن سعاد ابو رموز کو صوتی بم کا شیل لگا جس کے نتیجے میں اس کا چہرہ جھلس گیا۔
دوسری جانب اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں نے بغیر اجازت کے ریلی منعقد کی تھی اس لیے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا گیا۔
درایں اثناء عبرانی نیوز ویب پورٹل ’وللا‘ کے مطابق ہفتے کے روز سلوان میں فلسطینی مظاہرین کے ساتھ تصادم کے نتیجے میں ایک فوجی اہلکار بھی زخمی ہوا ہے۔ زخمی فوجی کو پتھر لگنےسے چوٹیں آئی ہیں اور اسے علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی اسیران نے 17 اپریل کو اسرائیلی انتظامیہ کے مظالم کے خلاف اجتماعی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ آج بھوک ہڑتال کا ساتواں دن ہے۔ اسرائیلی زندانوں میں بھوک ہڑتال کرنے والے اسیران کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے فلسطین بھر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔
