غزہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی جیلوں میں قید بیمار اور زخمی فلسطینی اسیران کو جہاں علاج معالجے میں صیہونیوں کی طرف سے مجرمانہ غفلت کا سامنا ہے وہیں بعض اوقات علاج کی آڑ میں فلسطینیوں کو ایسی خطرناک اور مہلک ادویات دی جاتی ہیں جو تکلیف دور کرنے کے بجائے قیدی کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق صیہونی ریاست کے اس مجرمانہ ہتھکنڈے کا انکشاف حال ہی میں 47 سالہ اسیر محمد احمد الخطیب کے اہل خانہ نے کیا۔ الخطیب کے اہل خانہ نے لرزہ خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ صیہونی حکام نے اسیر کو ایک خطرناک دوائی کا ٹیکہ لگایا جس کے نتیجے میں اس کا دھڑ مکمل طور پر مفلوج ہوگیا ہے۔اسیر کی اہلیہ ام احمد نے بتایا کہ اس کا شوہر کچھ عرصے سے نزلہ زکام کا شکار تھا۔ انہوں نے جیل میں ان سے ملنے کی اجازت چاہی تو صیہونی حکام نے انہیں ملنے سے روک دیا۔ 25 روز کے بعد انہوں نے دوبارہ کوشش کی مگر انہیں اسیر سے ملنے نہیں دیا گیا۔ بعد میں جب وہ جزیرہ نما النقب کی نفحہ جیل میں الخطیب سے ملنے گئے تو وہ بستر علالت پرتھا۔ اس نے بتایا کہ صیہونی حکام کے نام ڈاکٹروں نے اسے ایک ٹیکہ لگایا جس نے اس کی کمر سے نیچے پورے جسم کو مفلوج کردیا۔
اسیر کی اہلیہ نے اپنے شوہر کی طبی حالت کی ذمہ داری اسرائیلی حکام پر عائد کی اور کہا کہ صیہونی حکام نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس کے شوہر کو معذور کیا ہے۔
دوسری جانب فلسطینی محکمہ امور اسیران کی طرف سے بھی اسیر الخطیب کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیلی حکام احمد الخطیب کی بیماری اور اسے معذور کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
خیال رہے کہ اسیر محمد احمد الخطیب کو اسرائیلی زندانوں میں عمر قید کی سزا کا سامنا ہے۔
