مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی ریاست کی ایک مقامی عدالت نے زیرحراست عرب کنیسٹ باسل عطاس کو آئندہ سوموار تک پولیس کی حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ باسل عطاس کو اسرائیلی پولیس نے گذشتہ منگل کو تین گھنٹے کے لیے حراست میں لیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ وہ اسرائیلی عقوبت خانوں میں پابند سلاسل فلسطینی اسیران کو موبائل فون اور سمیں فراہم کرنے میں ملوث رہے ہیں۔ اسی الزام میں صہیونی پولیس نے انہیں گذشتہ روز حراست میں لے لیا تھا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی ریشن لٹسین کی عدالت نے زیر حراست عرب رکن کنیسٹ کو آئندہ سوموار تک پولیس کی حراست میں رکھنے اور ان سے تفتیش کا حکم دیا ہے۔
باسل غطاس کی عدالت میں پیشی کے موقع پرغطاس کے وکلاء ، سیاسی کارکنوں اور نیشنل سماج پارٹی کے ارکان سمیت بڑی تعداد عدالت کےاحاطے میں موجود تھی۔
خیال رہے کہ باسل غطاس کو جمعہ کی شام حراست میں لیا گیا تھا۔ قبل ازیں صہیونی پارلیمنٹ نے تفتیش کے لیے باسل غطاس کو حاصل پارلیمانی تحفظ ختم کردیا تھا جس کے بعد اُنہیں حراست میں لیا گیا تھا۔
