نابلس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی اتھارٹی کے نام نہاد پولیس اور غنڈہ گردوں نے گذشتہ روز اسلامی جہاد کے دو رہنماؤں الشیخ خضر عدنان اور محمد علان کو کئی گھنٹے حبس بے جا میں رکھنے اور ان پر تشدد کرنے کے خلاف عوامی اور سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید مذمت کی گئی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سابق فلسطینی وزیر انجینیر وصفی قبہا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلامی جہاد کے رہنما الشیخ خضر عدنان اور محمد علان کو فلسطینی اسیران کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ریلی میں شرکت سے روکنا ، انہیں زدو کوب کرنا اور انہیں حبس بے جا Â میں رکھنا غیرقانونی اور غیر اخلاقی ہے۔ اس طرح کے مکروہ حربوں سے فلسطینی اتھارٹی اور اس کے نام نہاد سیکیورٹی ادارے بری طرح بدنام ہو رہے ہیں اور ان کی ساکھ مجروح ہو رہی ہے۔خیال رہے کہ گذشتہ روز عباس ملیشیا کے اہلکاروں نے اسلامی جہاد کے رہنما محمد علان اور الشیخ خضر عدنان کو اسیران کی حمایت میں نکالی گئی ایک ریلی میں شرکت سے روکنے کے بعد انہیں نابلس میں پولیس سینٹر میں زدو کوب کیا گیا اور انہیں حبس بے جا میں رکھا گیا۔
فلسطینی سیاسی قایدین نے اسلامی جہاد کے رہنماؤں کو احتجاجی ریلی میں شرکت سے روکنے، انہیں تشدد کا نشانہ بنانے اور حبس بے جا میں رکھنے کی شدید مذمت کی ہے۔
اسلامی جہاد اور حماس سمیت کئی دوسری فلسطینی تنظیموں کی طرف سے الشیخ خضر عدنان اور محمد علان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے عباس ملیشیا کی بدسلوکی شدید مذمت کی ہے۔
