فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی علماء کونسل نے عالم اسلام اور عرب ممالک پر زور دیا کہ وہ مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کو پنجہ یہود سے آزاد کرانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔
بیان میں مسجد اقصیٰ میں صہیونی آباد کاروں کے دھاووں، اسرائیلی فوج اور پولیس کی جانب سے مقدس مقام کی بے حرمتی کی شدید مزمت کرتے ہوئے انہیں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کی گھناؤنی کوشش قرار دیا۔
خیال رہے کہ Â 21 اگست 1969ء کی ہے جب آسٹریلوی نژاد ایک انتہا پسند صہیونی "ڈینس مائیکل” نے قبلہ اوّل میں گھس کراس میں آتش گیرمادہ پھینکا اور اللہ کےاس عظیم گھر کو آگ لگادی۔ یہ واقعہ مسلمانوں کے خلاف صہیونیوں کی منظم ریشہ دوانیوں کی زندہ مثال ہے۔ یہ کسی ایک سر پھرے صہیونی یا پاگل کتے کی کارستانی نہ تھی بلکہ اس کی پشت پر وہ تمام یہودی گروپ اور لابیاں کھڑی تھیں جو قبلہ اوّل کو مسمار کرکے اس کی جگہ مزعومہ ہیکل سلیمانی کی بنیادیں کھڑی کرنا چاہتی ہیں۔
آتش زدگی کے ہولناک واقعے کے نتیجے میں قبلہ اوّل کے کل 4400 مربع میٹر کے رقبے میں سے 1500 مربع میٹر حصہ جل کرخاکستر ہوگیا۔ منبر صلاح الدین ایوبی، مسجد عمر بن خطاب، محراب زکریا، مقام اربعین، شمالا جنوبا پھیلے چار کوریڈور، کئی محراب اور ستون، قدیم دور کا سنگ مرمر، مسجد کے زیریں منزل کی چھت، قبۃ الصخرۃ کو تھامنے والے دو بنیادی ستون، قبلہ اوّل کی جنوبی سمت میں پھیلی دیواریں، شیشوں اور لکڑی سے بنی 48 کھڑکیاں ڈیڑھ ہزار میٹر کارپٹ، دسیوں اسلامی کتابیں مسجد Â اورسیکڑوں کتبے آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آئے اور جل کربھسم ہوگئے۔
