الخلیل (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکام نے مسلسل 23 روز سے بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی اسیر رزق الرجوب کے اہل خانہ کو اسیر سے ملاقات سے روک دیا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسیر کے بیٹے احمد الرجوب نے بتایا کہ اس کی والدہ اور بہنیں صیہونی زندان میں بھوک ہڑتال کرنے والے ان کے والد سے ملنے کے لیے جانا چاہتی تھیں مگر اسرائیلی حکام نے انہیں جیل میں داخل ہونے سے روک دیا۔دوسری جانب فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے ایک اسیر فلسطینی شہری نے اسرائیلی حکام کی طرف سے ملک بدری کی شرط پر رہائی کی پیش کش ٹھکراتے ہوئے بلا جواز انتظامی حراست کے خلاف بھوک ہڑتالÂ جاری رکھی ہوئی ہے۔ آج ان کی بھوک ہڑتال کو مسلسل 23 واں دن ہے۔ الرجوب کی بھوک ہڑتال جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق قید تنہائی اور بھوک ہڑتال کے نتیجے میں الرجوب کی حالت تشویشناک ہوگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 61 سالہ رزق الرجوب کا تعلق غرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل کے دورا قصبے سے ہے۔ اسرائیلی حکام نے اسے 27 نومبر 2017ء کو حراست میں لیا تھا۔ انہوں نے 21Â روزقبل اسرائیلی حکام کی طرف سے اسے کہا گیا کہ اگر وہ فلسطین سے چلا جاتا ہے تو اس شرط پر اسے رہا کیا جا سکتا ہے۔ اس پر رزق الرجوب نے دو ٹوک جواب دیا اور کہا کہ وہ ملک بدری پر قید کو ترجیح دے گا۔ ساتھ ہی اس نے بلا جواز اور غیرقانونی انتظامی حراست کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کردی تھی۔
فلسطینی محکمہ امور اسیران کے مطابق اسیر الرجوب نےبہ طور احتجاجÂ بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔ انہیں دو ہفتے قبل اسرائیل کی ’عوفر‘ فوجی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں حکام نے انہیں کہا کہ وہ ملک بدری کی شرط مان لیں تو اسے رہا کیا جاسکتا ہے تاہم فلسطینی اسیر نے واضح کیا کہ وہÂ جلاوطنی پر قید کو ترجیح دے گا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی طرف سے رزق الرجوب اور اس کے اہل خانہ مسلسل زیرعتاب رہتے ہیں۔ چند ماہ قبل اسرائیلی فوج نے دورا کے مقام پر واقع ان کے گھر میں گھس کر توڑپھوڑ کی اور ان کی دو گاڑیاںÂ ضبط کرلی تھیں۔
اکسٹھ سالہ رزق الرجبو پانچ بچوں کے باپ ہیں۔ انہوں نے مجموعی طور پر 23 سال اسرائیلی جیلوں میں قید کاٹی۔ قید کا 10 سال کا عرصہ انتظامی حراست پر مشتمل ہے۔
