فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق صہیونی آبادکار، اتوار کے روز اسلامی تقدس کو پامال کرتے ہوئے باب المغاربہ کی جانب مسجد الاقصی میں داخل ہو گئے۔
صیہونی آباد کاروں نے مسجد میں گھس کرنہ صرف اشتعال انگیز نعرے لگائے بلکہ تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات بھی ادا کرتے رہے۔ اس موقع پر فلسطینی شہریوں کو نماز کے لیے مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ پولیس کی سیکیورٹی میں مسجد اقصیٰ کے مراکشی دروازے سے دسیوں صیہونی اندر داخل ہوئے اور گھنٹوں قبلہ اوّل میں گھومتے رہے۔ صہیونی پولیس اہلکار انتہا پسندوں کو مراکشی دروازے کے راستے قبلہ اوّل میں داخل کرتے اور باب السلسلہ سے باہر نکالتے رہے۔
رپورٹ کے مطابق صیہونی آباد کاروں نے "باب الرحمہ” کے قریب تلمودی تعلیمات کے مطابق نماز بھی ادا کی۔ اس موقع پر اسرائیلی پولیس نے یہودیوں کو فول پروف سیکیورٹی مہیا کر رکھی تھی۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ صہیونی فوج کی طرف سے صیہونی آباد کاروں کی موجودگی کے دوران تمام فلسطینیوں کے قبلہ اوّل میں داخل ہونے پر پابندی عائد کردی تھی۔ بعد ازاں چالیس سال سے زائد عمر کے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں جانے کی مشروط اجازت دی گئی تھی۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ صیہونی آباد کاروں کی آمد کے وقت مسجد اقصیٰ میں بڑی تعداد میں مسلمان نمازی موجود تھے۔ اسرائیلی پولیس نے مسجد کے دروازے بند کرکے فلسطینی نمازیوں کو ایک ہال میں بند کردیا اور کسی فلسطینی کو باہر جانے کی جازت بھی نہیں دی گئی۔
مسجد الاقصی پر صیہونی آبادکاروں کے حملوں کے خلاف اکتوبر دو ہزار پندرہ سے تیسری تحریک انتفاضہ بھی جاری ہے جس کے دوران تین سو بیس سے زیادہ فلسطینی شہید اور سیکڑوں دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
