مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) صہیونی فوج کی جانب سے نہتے فلسطینیوں پر بیت المقدس میں عرصہ حیات تنگ کرنے کی پالیسی کا ظالمانہ سلسلہ جاری ہے۔
گذشتہ روز صہیونی فوج نے بیت المقدس میں ایک اور فلسطینی خاندان کو اس کے گھر سے محروم کردیا۔فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بدھ کو اسرائیلی فوج اور پولیس کی بھاری نفری سول انتظامیہ اور بھاری مشینری کے ساتھ سلوان قصبے میں داخل ہوئی۔
قدس پریس کے مطابق صہیونی پولیس نے سلوان قصبے میں راس العامود کالونی میں فلسطینی خاندان ابو فرحہ کے گھر کا محاصرہ کیا۔ بعد ازاں گھر کی چھت پر چڑھ کر اس کے اطراف میں موجود فلسطینیوں کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
کچھ ہی دیر بعد صہیونی فوج نے ابو فرحہ کے اس دو منزلہ مکان کو بلڈوزروں کی مدد سے یہ کہہ کر مسمار کردیا ہے یہ گھر اسرائیلی انتظامیہ کی اجازت کے بغیر تعمیر کیا گیا ہے۔
متاثرہ خاندان کے ایک شخص معتصم ابو فرحہ نے بتایا کہ اسرائیلی بلدیہ کی طرف سے انہیں مکان مسماری کا نوٹس گذشتہ جمعرات کو جاری کیا گیا تھا جس میں کہ مکان کو ایک ہفتے کے اندر اندر خالی کردیا جائے۔ معتصم ابو فرحہ نے بتایا کہ مکان میں بچوں اور خواتین سمیت آٹھ افراد سوار تھے۔ مکان مسماری کے بعد اہل خانہ کھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پرمجبور ہیں۔
