اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے بھی اس واقعے کو کوریج دی ہے اور بتایا ہے کہ گذشتہ روز غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے ایک فلسطینی مریض کو غرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل میں لانے کی کوشش کی جا رہی تھی تو اسرائیلی انتظامیہ نے مریض کے لواحقین کو بیمار شخص کو اسپتال لے جانے سے روک دیا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے مریض کی حالت بہت تشویشناک ہے اور وہ مسلسل 40 دن سے کومے میں ہے۔ اس کے لواحقین نے غزہ کی پٹی میں تمام اسپتالوں میں اس کے علاج کی کوشش کی مگر کہیں بھی اس کا علاج نہیں ہوسکا۔ ڈاکٹروں نے اسے الخلیل شہر کے ایک اسپتال لے جانے کا مشورہ دیا۔ مریض کے لواحقین 32 سالہ نوجوان عبدالکریم ابو لبن و لے کر سرحدی گذرگاہ ایریز پر پہنچے تو صہیونی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اسے غرب اردن داخل کرانے سے روک دیا۔
رپورٹ کے مطابق ابو لبن کے اہل خانہ مریض کو غرب اردن لے جانے کی پہلے Â بھی کوشش کرچکے ہیں۔ انہوں نے اکتوبر کے اوائل میں اسرائیلی حکام کو ایک درخواست دی تھی جس میں مریض کو الخلیل کے اسپتال میں لے جانے کی اجازت مانگی گئی تھی مگر صہیونی فوج نے مریض کو اسپتال لے جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔
