فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے وزیرخارجہ ریاض المالکی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ہیگ میں قائم عالمی فوج داری عدالت کی خاتون پراسیکیوٹر جنرل دفتر سے اجازت ملنے کے منتظر ہیں۔ جیسے ہی ہمیں Â اجازت ملتی ہے ہم فلسطین میں صہیونی آباد کاری کا معاملہ عالمی عدالت میں لے جائیں گے۔
خیال رہے کہ گذشتہ برس 23 دسمبر 2016ء کو منظور کی گئی سلامتی کونسل کی قرارداد 2234 Â میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ فلسطین میں صہیونی آباد کاری کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے۔
عالمی سطح پر فلسطین میں صہیونی آباد کاری کی مسلسل مذمت اور مخالفت کی جا رہی ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے اسرائیل سے بار بار مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فلسطین میں صہیونی آباد کاری اور توسیع پسندی کا سلسلہ بند کرے مگر عالمی برادری کے پرزور احتجاج کے باوجود اسرائیل اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور آئے روز غرب اردن اور بیت المقدس میں صہیونی آباد کاری کے منصوبوں کی منظوری دے رہا ہے۔
فلسطینی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ صہیونی آباد کاری کا معاملہ عالمی عدالت میں لے جانے پر فلسطینی قیادت میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ جیسے ہی ہم حتمی طور پر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اب مزید انتظار کا وقت ختم ہوگیا ہے تو ہم آئی سی سی سے رجوع کریں گے۔
