مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) بزرگ فلسطینی رہنما اور اسلامی تحریک کے امیر الشیخ رائد صلاح کے وکیل خالد زبارقہ نے کہا ہے کہ ان کے موکل اسرائیل کی جزیرہ نما النقب کی ’رامون‘ جیل میں مسلسل قید تنہائی کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا کے جب سے الشیخ رائد صلاح کو حراست میں لیا گیا ہے تب سے ان کے اہل خانہ یا کسی وکیل کو ان سے نہیں ملنے دیا گیا۔
قبل ازیں ان کے ایک دوسرے وکیل نے انکشاف کیا تھا کہ الشیخ رائد صلاح کوÂ ’ٹوائلٹ‘ نما قید خانے میں بند کیا گیا ہے۔ وہ مجبورا وہیں نماز ادا کرنے اور دن رات گذارنے پرمجبور ہیں۔فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق الشیخ رائد صلاح کے وکیل نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’فیس بک‘ پر پوسٹ کردہ ایک بیان کہا کہ ان کے موکل کے ساتھ غیر انسانی سلوکÂ جاری ہے۔ الشیخ رائد صلاح کو اسرائیلی جیلروں اور فوج کی طرف سے منظم انداز میں غیرانسانی رویے کا سامنا ہے۔ انہیں جیل میں ٹوائلٹ میں بند کیا گیا ہے۔ وہ مجبورا وہیں رفع حاجت کے ساتھ ساتھ نماز ادا کرنے اور قید کاٹنے پرمجبور ہیں۔
اسرائیلی انتظامیہ نے انہیں کتب ، قرآن پاک اور ہرطرح کے لٹریچر کے حصول پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسلامی تحریک کے امیر اور بزرگ رہنما الشیخ رائد صلاح کو اسرائیلی فوج نے پچھلے ماہ حراست میں لیا تھا۔ ان پر اسرائیل کے خلاف تشدد کو ہوا دینے، ممنوعہ تنظیم کی قیادت کرنے اور اس کی سرگرمیوں میں حصہ لینے سمیت ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے کئی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
چند ہفتے قبل انہیں عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہوں نے اپنے ساتھ برتے جانے والے غیرانسانی سلوک سے پردہ اٹھایا اور بتایا کہ جیلر ان کے ساتھ غیرانسانی اور غیراخلاقی رویہ اپناتے ہیں۔ انہیں جیل میں ٹوائلٹ میں بند رکھا جاتا ہے۔
الشیخ رائد صلاح نے اسرائیل کی مجسٹریٹ عدالت کے فاضل ججوں کے سامنے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آیا انہیں کس جرم میں ٹوائلٹ اور گندگی میں بند رکھنے کی سزا دی گئی ہے۔ انہیں یہ سزا کس کے حکم پر دی گئی ہے۔ ٹوائلٹ میں بند کرنے کے بعد بھی ان کی ہمہ وقت نگرانی کے لیے دو خفیہ کیمرے لگائے گئے ہیں۔ ان کے ساتھ ہونے والا وحشیانہ سلوک حیوانوں کےسے بھی روا نہیں۔
ادھر الشیخ رائد صلاح کے وکیل خالد زبارقہ نے کہا کہ ان کے موکل کو جیل میں غیرانسانی سلوک کا سامنا ہے۔ انہیں ٹوائلٹ میں رکھا گیا ہے اور ان کی نگرانی کے لیے کیمرے لگائے گئے ہیں۔
