رام اللہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) صہیونی انتظامیہ نے شہید فلسطینی نوجوان عادل عنکوش کی والدہ زینب عنکوش کی جیل سے رہائی کے لیے تین شرایط عائد کی ہیں اور کہا ہے کہ وہ ان شرائط کے بغیر زینب کو رہا نہیں کریں گے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کلب برائے اسیران کے مندوب عبدالناصر النوبانی نے بتایاکہ 46سالہ اسیرہ زینب عنکوش کو اسرائیلی فوج نے ’عوفر‘ نامی فوجی عدالت میں پیش کیا۔ اس موقع پر اسرائیلی ملٹری پراسیکیوٹر نے کہا ہے کہ وہ زینب کو 6000 شیکل ضمانت کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ 20 ہزار اضافی رقم کےمساوی مچلکوں پر دستخط کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ عدالت میں پیش ہو کر اپنے خلاف عائد الزامات کا اعتراف بھی کرے گی۔اس کے ساتھ ساتھ تیسری شرط یہ ہے کہ رہائی کے بعد وہ اسرائیل کے خلاف کسی قسم کی اشتعال انگیزی پرمبنی بیان بازی بھی نہیں کرے گی۔
خیال رہے کہ زینب عنکوش کو اسرائیلی فوج نے 21 جون کو رام اللہ کے نواحی علاقے دیر ابو مشعل سے حراست میں لے لیا تھا۔ زینب کا ایک بیٹا گذشتہ ماہ بیت المقدس میں باب العامود کے مقام پر اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں جام شہادت نوش کرگیا تھا جس کے بعد شہید کی والدہ اور دیگر اقارب نے صہیونی انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔
