غزہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے شعبہ اموراسیران کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی عقوبت خانوں میں پابند سلاسل حماس کے کئی دوسرے اسیران نے بھوک ہڑتال کرنے والے اسیران کے ساتھ یکجہتی کرتے ہوئے آج سے بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حماس کے شعبہ اسیران کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی مختلف جیلوں میں پابند سلاسل حماس کے کئی رہنما اور ارکان نے بھوک ہڑتال تحریک میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آزادی اور عزت‘ کے عنوان سے جاری تحریک انتفاضہ کا دائرہ روز بہ روز وسیع ہو رہا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں تمام فلسطینی اسیران بالخصوص حماس کے کارکنان ہمہ وقت الرٹ ہیں اور وہ آہستہ آہستہ بھوک ہڑتال میں شامل ہو رہے ہیں۔ اسیران پرعزم ہیں اور مشکلات کے باوجود انہوں نے ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی جیلوں میں 6500 فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔ ان میں 300 بچے، 1200 مریض قیدی بھی شامل ہیں جن میں 21 کینسر اور 17 امراض قلب کا شکار ہیں۔
ان میں سے 1500 اسیران نے فلسطین میں ’یوم اسیران‘ کے موقع پربھوک ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ یہ بھوک ہڑتال آج 18ویں Â روز میں جاری ہے۔ صہیونی ریاست کی جیلوں میں مجموعی طور پر 6500 سے زاید فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔ ان میں 57 خواتین، 300 بچے Â اور 500 انتظامی حراست کے قیدی اور 1800 مریض اسیران موجود ہیں۔
سنہ 1967ء کے بعد یہ فلسطینی اسیران کی 23 ویں اجتماعی بھوک ہڑتال ہے۔ سنہ 2014ء میں فلسطینی اسیران نے مسلسل 63 دن تک اجتماعی بھوک ہڑتال کی تھی۔
