فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی عدالت کی طرف سے صادر کیے گئے فیصلے میں جون میں بیت المقدس میں فدائی حملہ کرکے ایک خاتون پولیس اہلکار کو ہلاک اور ایک کو زخمی کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے فلسطینیوں اسامہ عطا،عادل عنکوش اور ابراہیم ابو صالح کے مکانات مسمار کرنے کا حکم دیا ہے۔ تینوں شہداء کا تعلق غرب اردن کے وسطی شہر رام اللہ کے نواحی قصبے دیر ابو مشعل سے ہے۔
عدالت نے رام اللہ البیرہ کے مشرقی علاقے سلواد کے رہائشی ایک اسیر مالک حامد کا مکان بھی مسمار کرنے کا حکم دیا ہے۔
مالک حامد کو اسرائیلی فوج نے چھ اپریل 2017ء کو حراست میں لیا تھا۔ اس پر رام اللہ میں قائم ’عوفرا‘ کالونی کے قریب ایک صہیونی آباد کار کو اپنی گاڑی تلے کچل کر زخمی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت کی طرف سے فلسطینی فدائی حملہ آوروں، شہداء اور اسیران کے گھروں کی مسماری کو معمول بنا رکھا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی طرف سے فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کو اسرائیل کی طرف سے اجتماعی سزا قرار دیا جا رہا ہے۔
