بیت لحم (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو صیہونی ریاست کا دارالحکومت بنائے جانے کے بعد فلسطین کے مسلمانوں اور مسیحی برادری دونوں میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف سخت نفرت پائی جا رہی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق تین ہفتے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان القدس کے بعد فلسطین کے تمام شہروں میں حالات کافی کشیدہ ہیں۔ دریائے اردن کے مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم کو عیسائی برادری کا مرکز کہا جاتا ہے۔ عیسائی برادری کرسمس اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا جشن تو منا رہی ہے تو یہ جشن ماضی کی طرح نہیں۔ مسلمانوں اور عیسائی برادری کی طرف سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان القدس کو مسترد کردیا گیا۔ اس کے بعد اسرائیلی فوج نے بیت لحم کا بھی گھیراؤ کر رکھا ہے۔حالیہ ایام میں بیت لحم میں المھد چرچ میں ہونے والی تقریبات میں بھی مقررین اور عیسائی مذہبی رہ نماؤں نے ٹرمپ کے اعلان کو مسترد کردیا۔
ہفتے کے روز بیت لحم سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں ’سانٹا کلاز‘ (بابا نویل) کے لباس میں ملبوس شہرگھٹنیا بجاتے چیخ چیخ کر ’اسرائیل دہشت گرد ریاست‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔
کیمرے کی آنکھ کے سامنے ایک عجیب منظر بھی آیا جب ایک بابا نویل نے مسلح اسرائیلی فوجی اہلکار کے قریب جا کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ ’میں یہیں بیت لحم کا باشندہ ہوں اور تم، تم غیرملکی قابض ہو‘۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ ’سانٹا کلازدنیا بھر کے بچوں کو تحائف دیتا ہے اور اسرائیل فلسطینی بچوں کو بموں کے تحفے دیتا ہے‘۔
بیت لحم میں عیسائی برادری آج کرسمس منا رہی ہے۔ گذشتہ شب ویٹیکن کے بعض عہدیدار بھی المھد چرچ پہنچنے کے لیے ایک چیک پوسٹ سے گذرے۔ چرچ کے صحن میں مقامی اور غیرملکی عیسائیوں کی بڑی تعداد جمع تھی۔ اس موقع پر فلسطینی موسیقی بینڈ نے روایتی موسیقی سے حاضرین کو محظوظ کیا۔
اس موقع پر بیت لحم بلدیہ کے چیئرمین انطون سلمان نے کہا کہ ہم امید رکھتے ہیں کہ اس کرسمس کو بھی بھرپور طریقے سے منائیں گے۔ ہم یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہم بھی زندگی کا حق رکھنے والی قوم ہیں۔ آزادی اور خود مختاری کا حق اور بیت المقدس کو اپنی ریاست کا دارالحکومت بنائے جانے کا حق رکھتے ہیں۔
