مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں یہودی آباد کاری کے توسیعی منصوبوں کے جلو میں یہود شدت پسندوں نے پرانے بیت المقدس میں صہیونی فوجیوں کو مفت کھانا فراہم کرنے کے لیے ایک نیا ہوٹل قائم کیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج کے لیے مفت ہوٹل کا قیام ایک ہفتہ قبل پرانے بیت المقدس میں شاہراہ الواد پر قائم کیا گیا تھا۔ اس ہوٹل میں آنے والے ہراسرائیلی فوجی کو مفت کھانا مہیا کیا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق کچھ عرصہ پیشتر بیت المقدس میں ’جیوش یوتھ‘ نامی ایک گروپ نے فنڈز جمع کرنے کی مہم شروع کی تھی۔ تنظیم نے 50 ہزار شیکل رقم جمع کرنے کے بعد شاہراہ الواد پر ایک ہوٹل قائم کیا جسے’سروسز پوائنٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ہوٹل ’عتیرت کوھنیم‘ نامی یہودی کالونی کے قریب قائم کیا گیا ہے۔ اس ہوٹل کے قریب ڈیوٹی انجام دینے والے فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور بارڈر پولیس کے اہلکاروں کو مفت میں کھانا، چائے اور کافی اور گرم وسرد مشروبات مہیا کیے جاتے ہیں۔
ہوٹل کی بیرونی دیواروں پر عبرانی میں مذہبی عبارات تحریر کی گئی ہیں۔ خیال رہے کہ یہ ہوٹل ایک ایسے وقت میں قائم کیا گیا ہے جب دوسری جانب صہیونی حکومت اور انتہا پسند یہودی تنظیمیں بیت المقدس کے اسلامی تاریخی تشخص کو پامال کرنے اور یہودی آباد کاری کی توسیع میں دن رات سرگرم عمل ہیں۔
