فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق 16 سالہ لڑکے اسامہ دغلس کے ساتھ یہ مجرمانہ واقعہ نابلس کے شمالی علاقے برقہ میں پیش آیا۔
اسامہ دغلس کے والد جمیل دغلس نے بتایا کہ اس کے بیٹے کو صہیونی دہشت گردوں نے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ایک ویران علاقے میں پھینک دیا۔ انہوں نے سمجھا کہ اسامہ ان کے تشدد سے فوت ہوچکا ہے۔ Â صہیونی اسے بے ہوشی کی حالت میں پھینک کر فرار ہوگئے۔
جمیل دغلس کا کہنا تھا کہ اس کا بیٹا معجزانہ طور پر زندہ بچا ہے ورنہ صہیونیوں نے اسے اپنے طور پر قتل کردیا تھا۔ اسامہ دغلس کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں اس کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔ اس نے خود بھی بتایا کہ وہ گھر کے قریب کھیل رہا تھا کہ صہیونیوں کے گروپ نے اسے پکڑا اور سب نے مل کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
اسامہ کے والد کا کہنا ہے کہ اس کے بیٹے کے پورے جسم پر تشدد اور مار پیٹ کے نشانات ہیں۔ تاہم اس کا بیٹا معجزانہ طور پر زندہ بچ گیا ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی شہریوں پر صہیونی آباد کاروں کا وحشیانہ تشدد اور قاتلانہ حملے کوئی نئی بات نہیں۔ قابض صہیونی حکام دانستہ طور پر آئے روز فلسطینیوں کی جان ومال پرحملے کرتے ہیں۔ اسامہ دغلس پر ہولناک تشدد صہیونی غنڈہ گردوں کی بدمعاشی اور درندگی کے سلسلے کی نئی کڑی ہے۔
