فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطین کے علاقوں نابلس، رام اللہ ، جنین، بیت لحم، الخلیل، طوباس، اریحا،غزہ کی پٹی، مقبوضہ بیت المقدس اور شمالی اور جنوبی فلسطین میں بھی فلسطینیوں نے دو نومبر کو یوم سیاہ منایا۔ تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیوں کی جگہ اعلان بالفوراور اس کے فلسطینی قوم پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے بارے میں آگاہی پروگرامات منعقد کیے گئے۔
یوم سیاہ کے موقع پر شہریوں نے سیاہ لباس اور سیاہ پرچم، فلسطین کا قومی پرچم، بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر فلسطینی میں صیہونیوں کو ملک بنانے میں مدد کرنے پر برطانیہ کے خلاف سخت الفاظ میں نعرے درج تھے۔ بینرز بردار شہریوں نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اعلان بالفور جاری کرنے پر فلسطینی قوم سے معافی مانگے۔
احتجاجی مظاہروں کے دوران عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شہریوں نے اسرائیل، برطانیہ اور امریکا سمیت صہیونی ریاست کی معاونت کرنے والے ممالک کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین نے فلسطینی اتھارٹی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل سے ہرقسم کے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کرے۔
تنظیم آزادی فلسطین کے رکن واصل ابو یوسف نے رام اللہ میں اعلان بالفور کی مخالفت میں نکالی گئی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی قوم کا آج سڑکوں پر نکلنا برطانیہ، اسرائیل اور صیہونی ریاست کے ہمنواؤں کے لیے واضح پیغام ہے کہ فلسطینی قوم اپنے ملک میں صیہونیوں کی نام نہاد اسرائیلی ریاست کو تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے فلسطین میں صیہونیوں کو اپنا قومی ملک بنانے میں معاونت کرکے فلسطینی قوم کے ساتھ دھوکہ کیا۔ ہم برطانیہ کی موجودہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ نام نہاد اعلان بالفورجاری کرنے پر فلسطینی قوم سے معافی مانگے اور آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے۔
