فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یورپی یونین کے مقبوضہ بیت المقدس میں قائم ریجنل نمائندہ دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یونین کے ممبر ممالک بغیر کسی الزام کے فلسطینیوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالے جانے کی اسرائیلی پالیسی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ 18 ماہ کے دوران اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کو انتظامی حراست میں ڈالے قیدیوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ انتظامی قید میں نہ صرف بڑی عمر کے افراد ڈالے گئے ہیں بلکہ بچے بھی انتظامی قید کی پالیسی کے تحت پابند سلاسل کیے گئے ہیں۔ اس وقت بھی بچوں سمیت Â 700 فلسطینی انتظامی حراست کے تحت قید ہیں۔
یورپی یونین نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی شہریوں کو انتظامی قید میں ڈالے جانے کی ظالمانہ پالیسی ترک کرے اور قید کیے گئے فلسطینیوں کو رہا کرے یا انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت بغیر کسی الزام کے محض شبے کی بنیاد پر فلسطینی شہریوں کو انتظامی قید میں ڈالنے کی ظالمانہ پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ یہ پالیسی برطانوی دور استبداد سے جاری ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت کسی بھی فلسطین کو کم سے کم تین ماہ کے لیے حراست میں رکھا جاتا ہے۔ بعد ازاں اس میں غیرمعینہ مدت تک بار بار توسیع کی جاسکتی ہے۔
انتظامی حراست میں ڈالے گئے فلسطینی ظالمانہ سزا کے خلاف بھوک ہڑتال بھی کرتے ہیں۔ رواں سال کئی فلسطینیوں نے انتظامی قید کے خلاف بھوک ہڑتال کی۔ اس وقت بھی دو فلسطینی اسیران انس شدید اور احمد ابو فارہ بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔
