بیت لحم (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) دو روز قبل فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم سے امریکی وزارت خارجہ کے وفد کو مار بھگانے والے فلسطینیوں کے خلاف عباس ملیشیا نے نئی کارروائی شروع کردی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عباس ملیشیا امریکی وفد پر گنڈے انڈے پھینکنے اور انہیں غرب اردن سے نکال باہر کرنے والوں کو تلاش کررہی ہے۔رپورٹ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی نے سرکاری سطح پربھی امریکیوں کو مار بھگانے کی مذمت کی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ امریکی وفد کو غرب اردن سے نکال باہر کرنے سے منفی تاثر گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عباس ملیشیا کے اہلکار ان فلسطینی کارکنوں کو تلاش کر رہے ہیں جنہوں نے امریکی وفد کو غرب اردن سے باہر نکال دیا تھا۔
خیال رہے کہ امریکی وزارت خارجہ کے عہدیداروں کا ایک وفد دو روز قبل تاریخی شہر بیت لحم کے دورے پر آیا تو ایوان صنعت وتجارت کے ارکان اور دیگر سماجی کارکنوں نے طاقت کے ذریعے امریکی وفد کو شہر سے باہر بھگا دیا۔ مظاہرین سخت مشتعل تھے اور انہوں نے امریکیوں کے خلاف شدید نعر ے بازی کی اور ان کی گندے انڈوں کے ساتھ تواضع کی گئی۔ فلسطینیوں کا غم وغصہ دیکھنے کے بعد امریکی وفد نے بیت لحم سے بھاگنے ہی میں عافیت سمجھی۔
فلسطینی خبر رساں اداروں کے مطابق بیت لحم گورنری کے ایوان صنعت وتجارت کے چیئرمین سمیر حزبون نے کہا کہ امریکی وفد شہر میں ڈی جیٹل تجارت سے متعلق ایک کورس میں شرکت کے لیے آیا تھا۔ ان میں ایک امریکی پروفیسر اور القدس میں امریکی قونصل خانے کے اہلکار بھی شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ اچانک ہم نے دیکھا کہ مظاہرین کا ایک ھجوم سخت غم وغصے میں دفتر میں آدھمکا۔ اس وقت کورس جاری تھا۔ مظاہرین کورس میں امریکیوں کی موجودگی پر سخت احتجاج کیا جس کے بعد ہمیں کورس وہیں ختم کرنا پڑا۔ امریکی وفد قونصل خانے کے اہلکاروں سے سمیت وہاں سے باہر نکلا تو ان پر گندے انڈے بھی پھینکے گئے۔
اس واقعے کی ایک فوٹیج بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں مشتعل فلسطینی ھجوم کو امریکیوں کو شہر سے باہر نکالے اور ان کے خلاف شدید نعرے بازے کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں کتبے بھی اٹھا رکھے تھے جن پر ’امریکی۔ صیہونی۔ فاشزمنظور‘ کے الفاظ درج تھے۔
