فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بیت المقدس کے دو فلاحی اسپتالوں ’’المقاصد اسلامی فلاحی اسپتال‘‘ اور ’’المطلع سوشل سیکیورٹی اسپتال‘‘ کا مجموعی قرضہ 63 ملین ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے جس کے نتیجے میں یہ دونوں اسپتال کسی بھی وقت بند ہوسکتے ہیں۔ اسپتالوں کے بھاری قرضے فلسطینی اتھارٹی کی لا پراہی اور مبینہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
دونوں اسپتالوں کی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسپتال قرضوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔ انتظامیہ مزید طبی سامان، اودیات علاج کے لیےآلات و مشینری کی خریداری میں ناکام ہوچکی ہے۔ دونوں اسپتالوں میں ادویہ کی قلت بھی بڑھ چکی ہے۔ عملے کو تنخواہوں کی ادائیگی بھی مشکل ہو رہی ہے۔
المقاصد اسلامی فلاحی اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رفیق الحسینی نے کہا کہ المقاصد اسپتال چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر فلسطینی مریضوں کے علاج و معالجے میں مصروف ہے۔ اسپتال ایک لمحے کے لیے بھی بند نہیں ہوا ہے اور نہ ہی طبی سروسز روکی ہیں۔ مشکل حالات کے باوجود ہم نے شہریوں کے علاج معالجے کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے مگر اب حالات قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ المقاصد اسپتال میں صرف بیت المقدس ہی کے شہریوں کا علاج نہیں کیا جاتا بلکہ اس اسپتال میں فلسطین کے دوسرے شہروں اور صہیونی ریاست کے زیرتسلط شہروں سے بھی بڑی تعداد میں مریض یہاں آتے ہیں۔ یہ اسپتال سالانہ ڈیڑھ لاکھ فلسطینی مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیت مہیا کرتا ہے۔
ڈاکٹر الحسینی کا کہنا تھا کہ مطلع اسپتال کی حالت بھی دگر گوں ہے۔ اس کی انتظامیہ نے ایک ماہ قبل فلسطینی اتھارٹی سے مالی مدد کی اپیل کی تھی مگر اسپتال کو سہارا دینے کے لیے کسی قسم کی مدد نہیں کی گئی۔
خیال رہے کہ المقاصد اور المطلع فلسطینی اسپتال القدس میں رام اللہ اتھارٹی کے زیرانتظام سب سے بڑے اسپتالوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ یہاں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔
ڈاکٹر الحسینی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بجٹ کی قلت کے باعث آئندہ سے غرب اردن اور غزہ کے سوائے ایمرجنسی کیسز کے دیگر مریضوں کے چیک اپ Â سے معذور کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح 29 دسمبر سے دونوں اسپتالوں کی انتظامیہ آپریشن تھیٹر سمیت ہرقسم کی ادویات کی فراہمی سے معذرت کرے گی۔
فلسطینی میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے المقاصد اور المطلع اسپتالوں کو رقوم فراہم کرنے پر پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کا بیت المقدس کے دونوں بڑے اسپتالوں کی مدد سے بے اعتنائی برتنا لاکھوں فلسطینی مریضوں کو بے یارو مدد گار چھوڑنے کے مترادف ہے۔
