مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) مقبوضہ فلسطینی شہر حیفا میں قائم اسرائیل کی مجسٹریٹ عدالت نے اسلامی تحریک کے سربراہ اور بزرگ فلسطینی رہنما الشیخ راید صلاح کےخلاف مقدمہ کی سماعت چھ مارچ تک ملتوی کردی گئی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق الشیخ رائد صلاح کے وکیل دفاع ایڈووکیٹ خالد زبارقہ نے کہا کہ بتایا کہ الشیخ رائد صلاح کے مقدمہ کی سماعت کے موقع پر عدالت میں اندرون فلسطین سے تعلق رکھنے والے دسیوں شہری موجود تھے۔ اس موقع پر عدالت نے ان کی قید تنہائی کے خلاف دائر کردہ درخواستÂ کی سماعت چھ مارچ تک ملتوی کردیÂ ہے۔ایڈووکیٹ زبارقہ نے کہا کہ صیہونی عدالت کی طرف سے الشیخ رائد صلاح کے خلاف غیرقانونی طرز عمل اختیار کیا جاتا ہے۔ صیہونی پراسیکیوٹر جنرل رائد صلاح کے کیس سے متعلق معاملے میں ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔ اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل اور پولیس کی سفارش پر الشیخ رائد صلاح کی غیرقانونی حراست اور قید تنہائی میں توسیع کردی گئی ہے۔
زبارقہ نے بتایا کہ انہوں نے اسرائیلی عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ الشیخ رائد صلاح کو رہا کر دے چاہے اس انہیں گھر پرنظربند ہی کیوں نہیں کردیا جاتا۔
الشیخ رائد صلاح کے وکیل خالد زبارقہ نے ’فیس بک‘ پر پوسٹ ایک بیان میں الشیخ رائد صلاح کے حوالے سے متوقع اسرائیلی فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صیہونی ریاست الشیخ رائد صلاح سے خوف زدہ ہے اور انہیں انتقامی کارروائی کے تحت قید تنہائی کے تحت پابند سلاسل کررہی ہے۔
خالد زبارقہ کا کہنا تھا ان کے موکل پرعزم ہیں اور ان شاء اللہ وہی سرخروÂ ہوں گے۔ فلسطینی قانون دان کا کہنا تھا کہ ان کے موکل اسرائیلی حکام کی رعونت اور سفاکیت کا پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں۔ صیہونیوں کے باطل دعوؤں کے سامنے الشیخ رائد صلاح فتح مند ہوں گے۔
قبل ازیں اسرائیلی پولیس الشیخ رائد صلاح کے خلاف اسرائیلی عدالت میں ایک درخواست دائر کرچکی ہے جس میں انہیں مزید چھ ماہ کے لیے قید تنہائی میں ڈالنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ الشیخ رائد صلاح غیرمعمولی طورپر فلسطینیوں میں مقبول ہیں۔
اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ الشیخ رائد صلاح اسرائیل کے خلاف نفرت پھیلانے والی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ ممنوعہ تنظیموں اور خلاف قانون اداروںÂ کی قیادت کرتے رہے ہیں۔ ان کا اشارہ اسلامی تحریک کی طرف تھا۔
خیال رہے کہ الشیخ رائد صلاح کو اسرائیلی فوج نے اگست 2017ء کو حراست میں لیا تھا۔ ان پر مسجد اقصیٰ کے دفاع ، القدس کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
