مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) مقبوضہ بیت المقدس کے تاریخی دروازوں میں ’باب العامود‘ کو القدس کے ایک تاریخی لینڈ مارک کا درجہ حاصل ہے۔ تاریخی مصادر سے پتا چلتا ہے کہ باب العامود کو رومانیہ کےعہد میں تعمیر کیا گیا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ’باب العامود‘ کا موجودہ ڈیزائن عثمانی عہد میں بنایا گیا۔ اس میں تاریخی فن تعمیرکے مطابق خوبصورت نقش ونگارگیا گیا ہے القدس میں قافلوں کے راستے کی مرکزی گذرگاہ ہے۔ اسے ’باب نابلس‘ اور ’باب دمشق‘ بھی کہا جاتا ہے۔مورخین کا کہنا ہے کہ اس دروازے کو باب العامود اس لیے قرار دیا گیا کیونکہ یہ دروازہ اندر سے سیاہ ہے۔ اس جگہ سے القدس کے دوسرے مقامات کے فاصلے کا بھی تعین کیاجاتا ہے۔ مسجد اقصیٰ میں داخلے کے لیے بھی یہ مرکزی دروازہ ہے۔
جب سے صیہونی ریاست نے القدس پراپنا غاصبانہ تسلط جمایا ہے دیگر تاریخی مقامات کی طرح باب العامود کا نقشہ بھی بدل دیا گیا ہے۔ صیہونی فوج نے باب العامود کے باہرایک آہنی پلیٹ فارم بنایا ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کی نگرانی کرنا اور انہیں خوف زدہ کرنا ہے۔اس ٹاورکو تفیشی کمرے کے طورپر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ آہنی مرکز نہ صرف فلسطینیوں کو خوف زدہ کرنے کا صہیونی حربہ ہے بلکہ دروازے کی تاریخی، اسلامی اور عرب تشخص کو ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ حقیقی معنوں میں القدس کے دیگر معالم وآثار کی طرح باب العامود بھی خطرے میں ہے۔
حال ہی میں اسرائیل نے باب العامود کے باہر ایک بڑی کرین نصب کی ہے تاکہ یہاں ایک معبد کی تعمیر کا کام شروع کیا جاسکے۔ مسجد اقصیٰ کے ڈائریکٹر الشیخ عمر الکسوانی نے کہا کہ ’اسلامی اوقاف القدس میں اسلامی تاریخی میراث کو تباہ کرنے کے لیے ہونے والے صیہونی حملوں کو باریکی کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم کے فلسطین میں متعین مندوب احمد رویضی کا کہنا ہے کہ القدس کا تحفظ ’یونیسکو‘ کی ذمہ داری ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ القدس میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کو جاننے کے لیے ایک انکوائری کمشن بھیجے تاکہ صیہونی ریاست کی فلسطینی تہذیب وثقافت اور تاریخ وتشخص کو مٹانے کی سازشوں کو بے نقاب کیا جاسکے۔
بیت المقدس کے مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ تاریخی باب دمشق کے باہر اسرائیل کی طرف سے قائم کردہ کنٹرول ٹاور فلسطینیوں کو خوف زدہ کرنے کا مجرمانہ صیہونی حربہ ہے۔
خیال رہے کہ صیہونی حکومت نے ’سیکیورٹی کنٹرول‘ کے نام پر باب العامود کو یہودیانے کے ایک وسیع پلان پر عمل پیرا ہے۔
