رام اللہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت تحریک فتح کی مرکزی کمیٹی کے سینیر رکن محمد اشتیہ نے کہا ہے کہ دو طرفہ (اسرائیل ۔ فلسطین) مذاکرات کا باب بند ہوچکا ہے جو اب بحال نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم فرانس، روس اور چین جیسے ممالک کے ساتھ مل کر عالمی برادری کے سائے تلے نیا روڈ میپ تیار کررہے ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بیت المقدس میں متعین فرانسیسی قونصل جنرل پییر کوشارڈ سے رام اللہ میں ملاقات کے دوران محمد اشتیہ کا کہنا تھا کہ القدس کے بارے میں امریکی حکومت کا فیصلہ صیہونی ریاست کی کھلم کھلا طرف داری ہے جس کے بعد امریکا امن عمل کے ثالث کا کردار کھو چکا ہے۔ انہوں نے فرانس پر زور دیا کہ وہ عالمی سیاسی مساعی کو آگے بڑھانے کی کوششیں جاری رکھے۔محمد اشتیہ کا کہنا تھا کہ فلسطینی قیادت کے پاس ایک نیا سیاسی اور سفارتی پلان ہے۔ ہم فلسطینی قومی مصالحت کو کامیاب بنانے کے ساتھÂ نیا عالمی روڈ میپ تیار کررہے ہیں۔
تحریک فتح کے رہنما کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’اعلان القدس‘ کے چند روز بعد جاری سامنے آیا ہے۔ چھ دسمبر کو صدر ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے ساتھ تل ابیب میں قائم امریکی سفارت خانہ القدس منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
