فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق القدس فاؤنڈیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی شہریوں کو مکانات کی تعمیر سے روکنا، ان کے بنے بنائے گھروں کو بے معنی دعوؤں اور الزامات کے تحت مسمار کرنا، فلسطینی آبادی پر بھاری بھرکم ٹیکس عائد کرنا، فلسطینیوں کو مختلف حیلوں بہانوں سے شہر سے بے دخل کرنا دراصل شہر مقدس کو فلسطینی وجود سے خالی کرنے کی مذموم سازشوں کا تسلسل ہے۔
القدس فاؤنڈیشن کی ہفتہ وار جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیت المقدس کے فلسطینی باشندوں کے خلاف جاری صہیونی ریاست کے انتقامی اقدامات آبادیاتی توازن تبدیل کرتے ہوئے فلسطینی آبادی کو اقلیت اور یہودیوں کو اکثریت میں تبدیل کرنا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ہرقیمت پر بیت المقدس میں فلسطینی وجود کو کم سے کم اور یہودیوں کی تعداد کو زیادہ سے زیادہ غلبہ دینا چاہتا ہے۔
صہیونی ریاست کی طرف سے طاقت کے ذریعے القدس کے باشندوں سے ان کی املاک چھینی جا رہی ہیں۔ حال ہی میں صہیونی انتظامیہ نے یہودی توسیع پسندی میں سرگرم ایک تنظیم کے مطالبے پر الشیخ جراح کے مقام پر فلسطینی شہری سے اس کا مکان خالی کرانے کے بعد اسے یہودیوں کے حوالے کیا۔
اس سے قبل عیدالاضحیٰ کے موقع پر اسرائیلی فوج نے الشیخ جراح میں بسنے والے 6 فلسطینی خاندانوں کو اپنے مکانات ایک ماہ کے اندر اندر خالی کرنے کے احکامات جاری کئے۔ ان گھروں میں مجموعی طور پر خواتین اور بچوں سمیت 45 افراد رہائش پذیر ہیں۔
عبرانی اخبار ’ہارٹز‘ کے مطابق صہیونی حکومت نے حال ہی میں بیت المقدس میں مزید ہزاروں کی تعداد میں مکانات کی تعمیر کی منظوری دی ہے جب کہ فلسطینیوں کو ایک گھر بھی بنانے کی اجازت نہیں۔
صہیونی فوج نے سلوان اور بیت المقدس کے دوسرے قصبوں میں حال ہی میں Â تین فلسطینی اسکولوں کی عمارتیں بھی مسمار کیں۔ شعفاط، العیساویہ، سلوان اور الثوری کالونی میں فلسطینیوں کے گھروں کے ساتھ ساتھ اسکول بھی مسمار کیے جا رہے ہیں۔
دو روز قبل اسرائیلی فوج نے فلسطینی شہری ایوب شمسانہ سے اس کا مکان خالی کرانے کے بعد اس میں یہودیوں کو بسا دیا گیا۔ یہ تمام قرائن اور شواہد بتاتے ہیں کہ قابض صہیونی ریاست ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بیت المقدس سے فلسطینی آبادی کا وجود ختم کرنا چاہتی ہے۔
