رام اللہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ غرب اردن میں گرفتاری کے وقت کتوں کے ذریعے زخمی کئے گئے فلسطینی نوجوان کو علاج سے بھی محروم کردیا گیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کلب برائے اسیران کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسیر مبروک جرار اس وقت ’مجد‘ جیل کے العفولہ اسپتال میں بستر علالت پر ہیں مگرانہیں کسی قسم کی طبی سہولت مہیا نہیں کی گئی ہے۔انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مبروک جرار کی حالت تشویشناک ہے۔ کتوں کے ذریعے زخمی کیے گئے فلسطینی نوجوان کو کسی قسم کی طبی سہولت مہیا نہیں کی گئی ہے جس کے باعث اس کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسیر مبروک جرار نے کلب برائے اسیران کے مندوب خالد محاجنہ سےÂ العفولہ ملٹری اسپتال میں بات کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی فوجیوں نے اس کے گھرمیں گھس کراسے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ اسے گولیاں مار کر زخمی کیا گیا اور امدادی کارکنوں کو اسے طبی امداد بھی نہیں پہنچانے دی گئی۔
مبروک جرار نے بتایا کہ یہ صبح چھ بجے کا وقت تھا جب صیہونی فوج کی بھاری نفری نے غرب اردن کے شمالی شہر نابلس میں برقین کے مقام پر واقع اس کے گھر کا محاصرہ کیا۔
اسرائیلی فوجیوں نے گھر میں گھس کر مجھے گولی ماری جس کے نتیجے میں میں فرش پر گرگیا۔ اس کے بعد مجھے وہیں چھوڑ دیا گیا۔ کچھ دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ میرے سامنے ایک وحشی کتا موجود ہے۔ فوجیوں نے کتے پر مجھ پر پل پڑنے کا اشارہ کیا جس کے بعد اس نے میرے زخمی جسم کو بری طرح نوچا۔ مجھے اسی حالت میں گھر کی دوسری منزل سے گھیسٹ کر نیچے لایا گیا۔ کتے نے میرے کندھے،Â بائیں پنڈلی اور جسم کے دوسرے حصوں پر کو بری طرح کاٹا۔ گولی لگنے سے میں شدید زخمی تھا اور میرے منہ اور ناک سے مسلسل خون بہتا رہا۔ گھر کے کسی دوسرے فرد یا امدادی کارکنÂ کو میری مدد کرنے کی اجازت نہ دی گئی۔ صیہونی فوجی مجھے اسی طرح بے یارو مدد گار مارنا چاہتے تھے۔
کافی دیر تک میرے جسم سے خون بہنے کے بعد صیہونی فوج نے مجھے اسی حالت میں اٹھا کر جیپ میں ڈالا اور سالم فوجی کیمپ لے گئے جہاں مزید دو روز تک مجھے کوئی طبی امداد مہیا نہیں کی گئی۔
