نابلس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) صہیونی فوجیوں کی بڑی تعداد نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں حضرت یوسف علیہ السلام کے مزار پردھاوا بولا۔
قابض فوج نے اردن سے واپس آنے والے ایک فلسطینی لیکچرار کو بھی حراست میں لے کرنامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق صہیونی فوجیوں کو ایک بس کے ذریعے حضرت یوسف علیہ السلام کے مزار پرلایا گیا۔ صہیونی حکام کا کہنا ہے کہ یہودی فوجیوں کے دھاوے کا مقصد مقدس مقام پر جاری تعمیراتی کاموں کی نگرانی کرنا ہے۔عینی شاہدین نے بتایا کہ رات کو ایک بجے اسرائیلی فوجی حضرت یوسف علیہ السلام کے مزار میں داخل ہوئے۔ ان کے ہمراہ تعمیراتی شعبے کے متعدد اہلکار بھی شامل تھے۔
قبل ازیں اسرائیلی فوج کی بیسیوں گاڑیوں نے نابلس پر دھاوے بولے اور شہریوں کو زدو کوب کیا گیا۔
شمالی نابلس میں بلاطہ قصبے، شاہراہ عمان اور بلاطہ پناہ گزین کیمپ کے اطراف Â میں چھاپے مارے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ جب صہیونی فوج کی نگرانی میں حضرت یوسف کے مزار کی مرمت کا کام شروع کیا جا رہا ہے۔
ادھر نابلس میں اسرائیلی فوج نے اردن سے واپس آنے والے فلسطینی لیکچرار 30 سالہ معاذ یوسف السرکجی کو حراست میں لے لیا۔ معاذ اردن میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطن لوٹ رہے تھے۔
