فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق الخلیل شہر میں تعمیراتی کمیٹی کے چیئرمین انجینیر عماد حمدان نے بتایا کہ تعمیراتی کمیٹی آل ابو رجب کے مکان پر صیہونیوں کے قبضے کے معاملے کی قانونی پیروی کررہی ہے۔ انہوں نے فلسطینی وکلاء کےساتھ مل کر اسرائیلی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس میں آل ابو رجب کے گھر پر صیہونیوں کے غیرقانونی قبضے کو چیلنج کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ عدالت نے کئی سال سے جاری کیس کی بار بار سماعت کے بعد اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل کی سفارشات کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ ابو رجب کے حق میں دیا ہے۔
خیال رہے کہ صیہونی آباد کاروں نے اپریل 2012ء کو صیہونی آباد کاروں نے آل ابو رجب کے مکان پر دھاوا بول کر قبضہ کرلیا تھا۔ اسرائیلی عدالت نے ایک بار صیہونیوں کو مکان سے نکلوا دیا تھا تاہم سنہ 2013ء میں انہوں نے دوبارہ مکان پر قبضہ کرلیا۔
بعد ازاں الخلیل کی تعمیراتی کمیٹی نے فلسطینی خاندان کے مکان پر صیہونیوں کا قبضہ ختم کرانے کے لیے اسرائیلی سپریم کورٹ میں درخواست دی تھی۔ تاہم عدالت نے صیہونیوں کے قبضے کو قانونی قرار دے کر فلسطینیوں کی درخواست خارج کردی تھی۔ تعمیراتی کمیٹی اور وکلاء نے فیصلے کو دوبارہ چیلنج کردیا تھا۔ اگرچہ عدالت نے فلسطینی خاندان کا مکان خالی کرنے کے حق میں فیصلہ دیا ہے تاہم اس پرعمل درآمد کے لیے اسرائیلی داخلی سلامتی کے وزیر کی منظوری درکار ہے۔
اس سے قبل پچیس جولائی کو 100 صیہونی غنڈہ گردوں نے آل ابو رجب کے مکان پر دھاوا بول کر وہاں پر رہنے والے فلسطینی بچوں، خواتین اور مردوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں گھر سے نکال دیا گیا تھا۔
