مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے زیرحراست ایک فلسطینی لڑکی لمیٰ البکری کو تین سال دو ماہ قید اور 6000 شیکل جرمانہ کی سزا کا حکم دیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کم عمر اسیرہ لمیٰ البکری کو اسرائیلی فوج نے چند ماہ قبل غرب اردن کے شمالی شہر الخلیل کی کریات اربع کالونی سے حراست میں لیا تھا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے دسمبر 2016ء کو مشرقی الخلیل میں صہیونی فوجیوں پر چاقو سے حملے کا بھونڈا الزام عائد کرتے ہوئے اسے گولیاں مار کر شدید زخمی کردیا تھا۔اسیرہ کے والد ابو حافظ البکری نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے ماری گئی گولیوں میں سے ایک گولی اس کی پنڈلی میں پھنس گئی گئی۔ اس کی بیٹی کئی گھنٹے تک خون میں لت پت رہی۔ سفاک صہیونی فوجیوں نے طبی امدادی کارکنوں کو اس کے قریب بھی جانے کی اجازت نہیں دی۔
اس کے والد کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج نے جب اس کی بیٹی کو گرفتار کیا تو اس کی عمر صرف پندرہ برس تھی۔
