فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے دو شہریوں کو حال ہی میں اسرائیلی فوج نے حراست میں لیا تھا۔ ان کے خلاف پیش کردہ الزامات میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے باب العامود کے مقام پر ایک فدائی حملے کے لیے فلسطینی مزاحمت کاروں کو وہاں پر پہنچانے میں مدد فراہم کی تھی جنہوں نے فدائی حملے کرکے ایک خاتون اسرائیلی فوجی اہلکار کو ہلاک اور چھ کو زخمی کردیا تھا۔
عبرانی نیوز ویب پورٹل ’حدشوت۔۱، Â اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ باب العامود میں فدائی حملے اور ایک خاتون فوجی اہلکار کی ہلاکت کے پانچ روز بعد پولیس نے دو فلسطینی نوجوانوں کو حراست میں لیا تھا۔ ان دونوں کا تعلق باب العامود کے مقام سے ہے۔ اسرائیلی پولیس نے الزام عائد کیا تھا کہ دونوں ملزمان نے فدائی حملے کے لیے تین فلسطینی حملہ آوروں کو وہاں تک لانے میں مدد فراہم کی تھی۔
خال رہے کہ غرب اردن کے شہر رام اللہ سے تعلق رکھنے والے تین Â فلسطینیوں براء صالح، اسامہ احمد عطا اور عادل المنکوش کو 16 جون کو باب العامود کے مقام پر گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔ صہیونی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ تینوں فلسطینیوں نے فدائی حملے میں ایک خاتون فوجی کو ہلاک اور چھ کو فائرنگ اور چاقو کے حملوں میں شدید زخمی کردیا تھا۔
