بیت لحم – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جیل ’ھشارون‘ میں پابند سلاسل ایک 26 سالہ فلسطینی اسیرہ حلوۃ سلیم محمد حمامرہ کے بازو کی سرجری کی گئی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق غرب اردن کے جنوبی شہر بیت لحم کے حوسان قصبے کی رہائشی حلوۃ محمد حمامرہ چند روز قبل جیل میں اپنے کمرے میں گرپڑی تھیں اور ان کا ایک بازو ٹوٹ گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق اسیرہ حمامرہ جیل میں سونے کے لیے بنائے گئے بیڈ سے گر گئی تھیں جس کے نتیجے میں ان کا ایک بازو ٹوٹ گیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بار بار صیہونی حکام سے حمامرہ کے بازو کو علاج کرانے کا مطالبہ کیا تھا مگر قابض صیہونی حکام اور جیل انتظامیہ بار بار ٹال مٹول سے کام لے رہے تھے۔
خیال رہے کہ اسیرہ حلوہ سلیم محمد حمامرہ گذشتہ دو سال سے ھشارون جیل میں قید ہے۔ انہیں اسرائیل کی عوفر نامی فوجی عدالت سے چھ سال قید اور چار ہزار شیکل جرمانہ کی سزا سنائی گئی تھی۔
حمامرہ ایک بچی کی ماں ہیں اور بچی کی عمر تین سال ہے۔ صیہونی جیل حکام نے حمامرہ کو اہل خانہ سے ملنے پرپابندی عائد کررکھی تھی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے بار بار مطالبات کے بعد اس کے شوہر اور دیگر اقارب کو ملنے کی اجازت دی گئی ہے۔
