فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اذان پرپابندی کی اسرائیلی سازش کے خلاف کل جمعہ کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے بعد فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی، مقبوضہ مغربی کنارے اور سنہ 1948ء کے دوران اسرائیل کے قبضے میں چلے جانے والےشہروں میں قریہ قریہ احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ کئی شہروں میں پرامن فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی فوج کے درمیان تصادم کی بھی اطلاعات ہیں۔ صہیونی فوج نے حسب معمول فلسطینی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج، آنسوگیس کی شیلنگ اور ربڑ کی دھاتی گولیوں کی بوچھاڑ کی ہے جس کے نتیجے میں درجنوں مظاہرین زخمی ہوگئے ہیں۔
سنہ 48ء کے مقبوضہ فلسطینی شہروں حیفا، الناصرہ اور الجلیل سمیت کئی دوسرے مقامات پر احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ سب سے بڑا جلوس الناصرہ شہر میں نکالا گیا۔ اس کے لاوہ رھط۔ الطیبہ، کفر قاسم، کفر کنا، کابول اور دیر حنا میں بھی اذان پرپابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔
کفر قاسم کے مقامی بلدیاتی کونسل کے چیئرین عواد بدیر نے کہا کہ نماز جمعہ کے بعد پرامن فلسطینی شہریوں کی بڑی تعداد نے ایک ریلی میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس شہر میں قیام اسرائیل کے وقت صہیونی بلوائیوں نے 49 معصوم فلسطینیوں کو شہید کیاتھا۔ فلسطینی ہر سال اسرائیلی فوج کی اس ریاستی دہشت گردی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے ہیں۔
جمعہ کے روز الطیبہ شہر میں دارارقم اسکول کی اپیل پرایک ریلی نکالی گئی جس میں بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر صہیونی ریاست کی جانب سے فلسطینی مساجد میں اذان پر پابندی عائد کیے جانے کے متنازع قانون کے خلاف نعرے درج تھے۔
فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں بھی جمعہ کے روز اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کی اپیل پر دو احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ ایک مظاہرہ وسطی جب کہ دوسرا شمالی غزہ میں ہوا۔
احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے صہیونی حکومت کی جانب سے مساجد میں اذان دینے پر پابندی کا قانون منظور کیے جانے کی شدید مذمت کی اور اسے مذہبی آزادیوں پر حملہ اور اسلام کے خلاف مذہبی جنگ چھیڑنے کی سازش قراردیا۔
ادھر فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہروں رام اللہ ، نعلین، بعلین، قلقیلیہ اور دیگر مقامات پر صہیونی ریاست کی دہشت گردی کے خلاف ہفتہ وار جلوس نکالے۔ یہ جلوس بھی مساجد میں اذان پرپابندی کے خلاف ریلیوں میں تبدیل ہوگئے۔
