فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطین تجزیہ نگاروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کابینہ میں مغوی فوجیوں کے معاملے کو زیربحث لا کراسرائیلی حکومت مغوی فوجیوں کے خاندانوں کی طرف سے آنے والے دباؤ کو کم کرنا چاہتی ہے۔
فلسطینی تجزیہ نگاراوراسرائیلی امورکے ماہر صالح النعامی نے کہا کہ ایک طرف مغوی فوجیوں کے اہل خانہ کا حکومت پرسخت دباؤ ہے۔ دوسری جانبÂ اسرائیلی کابینہ میں مغوی یہودی فوجیوں کی بازیابی کا معاملہ زیربحث لانے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ عالمی سطح پر بھی یہودی فوجیوں کی فلسطینی مزاحمت کاروں سے رہائی کے لیے کوششیں ہورہی ہیں۔
اسرائیلی کابینہ میں مغوی اسرائیلی فوجیوں کا معاملہ ایک ایسے میں زیر بحث لایا گیا ہے جب حال ہی میں ترک صدر رجب ایردوآن نے اسرائیل کے ایک اخبار کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر اسرائیل فلسطینیوں کی فہرست کے مطابق قیدیوں کو رہا کرنے پرآمادہ ہو تو انقرہ فلسطینیوں اور حماس کےدرمیان قیدیوں کا تبادلہ کرانے کی ڈیل میں ثالثی کے لیے تیار ہیں۔
غزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ نے چند ماہ قبل ایک فوٹیج جاری کی تھی جس میں چار یہودی فوجیوں کی تصاویر دکھائی گئی تھیں۔ ان کی شناخت ھدار گولڈین، شاؤل ارون، ابراہیم منگسٹو اور ھاشم بدوی السید کے ناموں سے کی گئی تھی۔ تاہم ان کے ٹھکانے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔
فلسطینی تجزیہ نگار صالح نعامی کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں جنگی قیدی بنائے گئے اپنے سپاہیوں کی بازیابی کے لیے جنگ کا ارادہ نہیں رکھتا۔ صہیونی حکومت کو اندازہ ہے کہ فوجی کارروائی نہ صرف یہودی فوجیوں کی رہائی میں ناکامی کا باعث بنے گی بلکہ اگر اسرائیلی فوج غزہ میں اپنی فوج داخل کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں مزید فوجیوں کو بھی یرغمال بنایا جاسکتا ہے۔
