فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جون میں اسرائیلی فوج نے 75 فلسطینی بچوں کو حراست میں لیا جب کہ جولائی میں یہ تعداد 150 اور اگست میں 135 بتائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت بھی اسرائیلی زندانوں میں 300 بچے پابند سلاسل ہیں جہاں ان کے ساتھ غیرانسانی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ انہیں جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے ساتھ انہیں تعلیم کے بنیادی حق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ کئی بچے بیمار ہیں جنہیں نامناسب طبی سہولیات میسر ہیں۔
رپورٹ میں عقوبت خانوں میں ڈالےگئے فلسطینی بچوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور تشدد کے حربوں پر بھی روشنی ڈالی جاتی ہے۔ رپورٹ میں تشدد کے چونکا دینے والے مجرمانہ ہھتکنڈوں سے پردہ چاک کیا گیا ہے۔ بچوں کو کپڑے اتار کر ننگا کیا جاتا ہے۔ انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کے ہاتھ پشت پر باندھ کر اس سختی کے ساتھ باندھا جاتا ہے کہ شدت تکلیف سے بچے کئی بار تڑپ تڑپ کربے ہوش ہوجاتے ہیں۔ رات بھر انہیں جگایا جاتا ہے۔ منہ اور سر کو بدبودار چیتھروں سے ڈھانپا جاتا ہے۔ ان پر کھولتا اور یخ بستہ پانی ڈالی جاتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ بچوں کو نفسیاتی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ طویل قید اور قتل کی دھمکیوں کے ساتھ والدین کے ساتھ بدسلوکی، بہن بھائیوں کو بغیر کسی وجہ کے گرفتار کرنے اور انہیں دیگرکئی طرح سے ذہنی طور پر ٹارچر کیا جاتا ہے۔
