مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی وزارت اوقاف کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فروری 2018ء کے دوران صیہونیوں کی جانب سے مسجد اقصیٰ اور تاریخی مسجد الابراہیمی کے خلاف 96 شر انگیز کارروائیاں کی گئیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی محکمہ اوقاف کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فروری میں روز مرہ کی بنیاد پر مسجد اقصیٰ اور مسجد ابراہیمی کی صیہونیوں کے ہاتھوں بے حرمتی کا سلسلہ جاری رہا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے اطراف میں فروری کے دوران صیہونی ریاست کے 9 منصوبوں کا انکشاف ہوا۔ القدس ڈویلپمنٹ کمپنی کی زیرنگرانی مسجد اقصیٰ کے اطراف میں کئی توسیعی اور آباد کاری کے منصوبوں پر کام شروع کیا گیا۔
ان منصوبوں میں شاہراہ سلطان سلیمان پر واقع القطن غاروں کو یہودیانے اور باب العامود اور باب الساھرہ کے درمیان یہودی توسیع پسندی کے منصوبے شامل ہیں۔
اس کے علاوہ صیہونیوں نے مقام براق کے قریب صیہونی مردوں اور عورتوں کے لیے ایک ہی جگہ مذہبی رسومات کی ادائیگی شروع کردی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صیہونی بلدیہ کی طرف سے قائم کردہ خصوصی کمیٹی نے بیت المقدس میں 43 تاریخی مقامات کے اسلامی اور عرب ناموں کو عبرانی زبان میں تبدیل کردیا۔
فلسطینی محکمہ اوقاف کا کہنا ہے کہ صیہونی ریاست کی طرف سے مسجد اقصیٰ کی مرمت کے 20 منصوبوں پر کام میں رکاوٹیں بدستور قائم رہیں۔
مسجد ابراہیمی میں 45 بار فروری کے دوران اذان دینے اور فلسطینی مسلمانوں کو نماز ادا کرنے سے منع کیا گیا۔
خیال رہے کہ سنہ 1994ء میں مسجد ابراہیمی میں ایک دہشت گرد صیہونی نے نماز فجر کی ادائیگی میں مصرف نمازیوں کو گولیاں مار کر شہید کردیا تھا جس کے بعد مسجد کو صیہونیوں اور مسلمانوں کے درمیان زمانی اور اعتبارسے تقسیم کیا گیا ہے۔ مسجد کا 55 فی صد حصہ صیہونیوں جب کہ 45 فی صد مسلمانوں کے لیے وقف کیا گیا۔
