مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی دو تنظیموں نے صیہونی فوج کے عقوبت خانوں میں ڈالے گئے فلسطینی بچوں پر وحشیانہ تشدد کا انکشاف کیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق انسانی حقوق کے گروپوں ’بتسلیم‘ اور ’ہموکیڈ‘ برائے دفاع فرد‘ نے اپنی ایک مشترکہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج، پولیس، جیلوں میں تعینات سیکیورٹی فورسز اور عدالتی باڈیز سب فلسطینی قیدیوں کے معاملے میں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صیہونی تفتیشی ادارے، پولیس اور تفتیش کار مشرقی بیت المقدس سے گرفتار کیے گئے فلسطینی نوجوانوں کر بدترین تشدد کرتے ہیں اور تشدد کرکے انہیں اقبال جرم کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں اسرائیلی فوج اور پولیس نے بیت المقدس میں فلسطینی بچوں کے خلاف رات کی تاریکی میں کریک ڈاؤن کیا۔ اس کریک ڈاؤن کے دوران کم سے کم 60 بچوں کو سوتے میں اٹھا کر عقوبت خانوں میں ڈالا گیا، جہاں ان پرانسانیت سوز مظالم ڈھائے گئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرفتار کیے گئے فلسطینی بچوں کو وکلاء کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ ہی انہیں عدالتوں میں پیش کیا گیا۔ صیہونی حکام نے انہیں تفتیش مکمل ہونے کے بعد بھی مسلسل پابند سلاسل رکھا اور جہاں انہیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں کی گرفتاری کے وقت بھی صیہونی فوج نے فلسطینی بچوں کو ان کے اہل خانہ اور والدین کے سامنے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا، کئی بچوں کو زخمی کرنے کے بعد بے رحمی کے ساتھ ہاتھ پاؤں باندھ کر فوجی گاڑیوں میں ڈالا گیا جہاں حراستی مراکز میں لائے جانے تک انہیں مسلسل زد و کوب کیا جاتا رہا۔
اسی رپورٹ میں انسانی حقوق کے گروپوں نے انکشاف کیا کہ صیہونی تفتیش کار گرفتار فلسطینی لڑکوں پرعائد الزامات تسلیم کرنے کے لیے ان پر وحشیانہ تشدد کرتے رہے۔
