مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کے وحشیانہ کریک ڈاؤن کے نتیجےمیں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایک رپورٹ کےمطابق اسرائیلی زندانوں میں پابند سلاسل فلسطینی خواتین کی تعداد 56 ہوگئی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی خواتین مندبین حنان الخطیب اور ھبہ المصالحہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ گذشتہ ماہ اسرائیلی فوج نے 14 سالہ ملال الغلیظ سمیت 8خواتین کو حراست میں لے کر زندانوں میں ڈالا۔ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید 9 لڑکیوں کی عمریں اٹھارہ سال سے کم ہیں اور ان کی شناخت ایمان علی، مرح جعیدہ، لمیٰ البکری، امل کبھا، منار شویکی، ملاک الغلیظ، ھدیہ عرینات اور ملکک سلیمان کے ناموں Â سے کی گئی ہے۔
جیلوں میں قید کئی خواتین کو سخت ترین سزاؤں کا بھی سامنا ہے۔ زخمی حالت میں گرفتار کی گئی Â نورھان عواد کو 13 سال، اسراء جعابیص کو 11 سال اور شروق دویات کو 16 سال قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
ملاک الغلیظ کو صہیونی فوج نے 28 مئی Â کو غرب اردن کے شمالی علاقے قلندیا کی ایک چیک پوسٹ سے حراست میں لیا۔ صہیونی فوج نے مزاحمتی حملے کے شبے میں الغلیظ کو حراست میں لیا اور گرفتاری کے بعد مسلسل چار گھنٹے تک اس کےساتھ انتہائی شرمناک توہین آمیز سلوک کیا گیا۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی22 جیلوں میں 6500 فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔ 29 اسیران اوسلو معاہدے سے پہلے سے قید ہیں۔ اسیران میں 11 ارکان پارلیمنٹ اور 500 انتظامی قیدی بھی شامل ہیں۔
