غزہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے کی رپورٹ کے مطابق مئی 2017ء کے دوران قابض صہیونی فوج اور پولیس کی تلاشی کی کارروائیوں میں 55 بچوں اور 18 خواتین سمیت کم سے کم 370 فلسطینی شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مرکز برائے حقوق اسیران کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صہیونی فوج کے ہاتھوں بیت حانون گذرگاہ سے دو فلسطینی شہریوں اور سات ماہی گیروں سمیت غزہ کے 10 شہریوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔انسانی حقوق کی تنظیم کے مندوب ریاض الاشقر نے بتایا کہ مئی کے دوران صہیونی فوج نے 18 فلسطینی خواتین کو بھی حراست میں لیا۔ ان میں دو زخمی لڑکیاں اورایک 14 سالہ ملاک الغلیظ بھی شامل ہے۔ گرفتاری کی کارروائیوں کے دوران قابض فوج نے الخلیل شہر سے 17 سالہ نور ارزیقات کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد اسے حراست میں لے لیا گیا۔
انسانی حقوق کے مندوب ریاض الاشقر نے بتایا کہ مئی کے دوران اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں سات فلسطینی صحافیوں کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں 65 سالہ سعید عیاش شامل ہیں جنہیں بیت المقدس میں سلوان کے مقام سے گرفتار کیا گیا۔ صہیونی فوج نے 63 سالہ فلسطینی دانشور احمد قطامش کو رام اللہ کے نواحی علاقے البیرہ سے حراست میں لیا۔ قطامش 13 سال اسرائیلی زندانوں میں پابند سلاسل رہ چکے ہیں۔ اسیران میں انسانی حقوق کی مندوبہ اور صحافیہ ایلیا اور خاتون کالم نگار لمیٰ غوشہ بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صہیونی فوج نے مئی کے دوران 42 فلسطینی شہریوں کو انتظامی حراست کی سزائیں سنائیں۔ ان میں 18 کو پہلی بار اور 24 اسیران کی انتظامی حراست میں توسیع کی گئی۔
