مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی فوج اور پولیس کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کے باوجود 50 ہزار سے زائد فلسطینی شہریوں نے نماز جمعہ مسجد الاقصیٰ میں ادا کی۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کل جمعہ 16 مارچ کو بیت المقدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت قرار دیے جانے کے 100 دن پورے ہوگئے۔ اس موقع پر فلسطین بھرمیں احتجاجی مظاہرے اور جلسے جلوس بھی نکالے گئے۔ بڑی تعداد میں فلسطینیوں نے مسجد الاقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کی۔اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکنے کے لیے القدس کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کررکھا تھا۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ صیہونی ریاست کی طرف سے عائد کردہ پابندیاں توڑ کر فلسطینی قبلہ اوّل میں پہنچنے اور نماز ادا کرنے میں کامیاب رہے۔ مسجد کے تمام اندرونی حال اور بیرونی احاطے نمازیوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے فلسطینی نمازیوں کی جامہ تلاشی کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ مسجد الاقصیٰ کے اطراف میں اسرائیلی فوج اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔
ادھر مسجد الاقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ عکرمہ صبری نے نماز جمعہ کی امامت اور خطابت کے دوران ’صدی کی ڈیل‘ نامی امریکی منصوبے کو مسلم امہ کے منہ پر طمانچہ قرار دیا۔
الشیخ عکرمہ صبری نے بیت المقدس کے فلسطینی باشندوں سے شہریت سلب کرنے کی صیہونی سازشوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ اسرائیل نام نہاد قوانین کی آڑ میں قبلہ اوّل کو یہودیانے کی سازشیں کرنے کے ساتھ ساتھ القدس کے فلسطینی باشندوں ک وہاں سے بے دخل کررہا ہے۔
