مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) یہودی آباد کاروں کی طرف سے مسجد اقصیٰ پر دھاووں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ کل منگل کو 47 انتہا پسند یہودیوں پولیس کی فول پروف سیکیورٹی میں مسجد اقصیٰ کے بے حرمتی کی۔
فلسطین کے انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق یہودی آباد کاروں نے اسرائیل کے سیکورٹی اہلکاروں کی مدد سے باب المغاربہ کی جانب سے مسجدالاقصی پر دھاوا بولاہے۔ منگل کو صبح سے شام تک یہودی آباد Â کاروں Â کی مسجد اقصیٰ میں آمد ورفت جاری Â رہی۔ قبل ازیں سوموار کو50 یہودی طلباء نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوکر مقدس مقام کی بے حرمتی کا ارتکاب کیا تھا۔ یہودی آباد کاروں نے مسجد میں گھس کرنہ صرف اشتعال انگیز نعرے لگائے بلکہ تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات بھی ادا کرتے رہے۔ اس موقع پر فلسطینی شہریوں کو نماز کے لیے مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔سیکورٹی انتظامات خاص طور سے اسرائیلی پولیس اور فوج کے باوجود مقبوضہ فلسطین اور غرب اردن کے مختلف علاقوں کے سیکڑوں نمازی، ماہ مبارک رمضان کی مخصوص عبادات انجام دینے کے لئے مسجدالاقصی پہنچتے ہیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ پولیس کی سیکیورٹی میں مسجد اقصیٰ کے مراکشی دروازے سے دسیوں یہودی اندر داخل ہوئے اور گھنٹوں قبلہ اول میں گھومتے رہے۔ صہیونی پولیس اہلکار انتہا پسندوں کو مراکشی دروازے کے راستے قبلہ اول میں داخل کرتے اور باب السلسلہ سے باہر نکالتے رہے۔
"قدس پریس” کے مطابق یہودی آبا دکاروں نے "باب الرحمہ” کے قریب تلمودی تعلیمات کے مطابق نماز بھی ادا کی۔ اس موقع پر اسرائیلی پولیس نے یہودیوں کو فول پروف سیکیورٹی مہیا کر رکھی تھی۔
