رام اللہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی عقوبت خانوں میں عشروں سے پابند سلاسل فلسطینی اسیران میں 48 سالہ جمعہ ابراہیم جمعہ آدم اسرائیلی قید میں اپنی مسلسل اسیری کے 29 سال مکمل کرنے کے بعد اسیری کے 30 ویں سال میں داخل ہوگئے ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسیران اسٹڈی سینٹر کی رپورٹ کے مطابق اڑتالیس سالہ جمعہ ابراہیم جمعہ آدم کا رہائشی تعلق مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ سے ہے۔ وہ 31 اکتوبر 1988ء سے صہیونی جیل میں پابند سلاسل ہیں۔انسانی حقوق کے مندوب ریاض الاشقر کا کہنا ہے کہ ابراہیم جمعہ اور ان کے دو ساتھیوں اسیر محمود خرابیش اور سابق اسیر احمد التکروری پر صیہونی فوجیوں کی بس پر سنگ باری کرکے ایک فوجی کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیاÂ تھا۔ ابراہیم جمعہ کو اس کیس میں تا حیات عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
اسیر آدم کو دوران حراست صیہونی انٹیلی جنس حکام بار بار اذیتوں کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ انہیں اعتراف جرم کے لیے 70 دن تک مسکوبیہ ٹارچر سیل میں مسلسل اذیتوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ صیہونی فوج نے ان کا مکان بھی مسمار کردیا تھا۔
اسیر جمعہ آدم کی ایک ہمشیرہ زندہ ہے اور اس کے والدین وفات پا چکے ہیں۔ دوران اسیری انہوں نے میٹرک سے گریجوایشن تک کی تعلیم مکمل کی اور اب القدس اوپن یونیورسٹی سے ایم اے کررہے ہیں۔ ایم اے کے لیے وہ اسرائیلیات کے موضوع پر مقالہ لکھیں گے۔
اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت پرانے 76 فلسطینی اسیران کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا مگر بعد ازاں چوتھے مرحلے میں شامل کیے گئے تیس فلسطینیوں کی رہائی روک دی گئی تھی۔
