مقبوضہ بیت المقدس ( فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات ) فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس کی ایک تاریخی غار کو یہودیانے کے لیے اسرائیلی حکومت نے 17 ملین شیکل کی خطیر رقم منظور کی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ’القدس ڈویلپمنٹ‘ کمپنی نے پرانے بیت المقدس میں باب العامود اور باب الساھرہ کے درمیان تاریخی غار کی مرمت کے لیے دو الگ الگ ٹینڈر جاری کیے ہیں۔عبرانی جریدے ’یروشلم‘ کے مطابق بیت المقدس کی غاروں کو یہویانے کے لیے قائم کردہ کمپنی ’تصدیقھو‘ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ تاریخی غار کی مرمت کے لیے اقدامات کرے۔ کمپنی کی طرف سے دو الگ الگ ٹینڈر جاری کئے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک ٹینڈر کی رقم 12 ملین شیکل رکھی گئی ہے۔ اس پروجیکٹ کےغار کو خشک کرنے کے مادی وسائل مہیا کرنا جب کہ دوسرے میں پانچ ملین شیکل کی رقم سے غار میں روشنی اور آواز کا اہتمام کرنا تھا۔
عبرانی اخبار کے مطابق حکومت کا مقصد تاریخی غار کے بنیادی ڈھانچے کو مزید بہتر بناتے ہوئے سیاحوں کے لیے پرکشش بنانا ہے۔ منصوبے کے تحت بجلی کی تاروں کو زمین کے اندر چھپانا اور معذورون کے اندر داخلے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
خیال رہے کہ پرانے بیت المقدس کی اس تاریخی غار کا رقبہ نو دونم ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر اس غار میں لوگ سیاحتÂ کے لیے آتے ہیں۔ گذشتہ برس اس غار میں یہودیوں کی تقریبات کے لیے جگہ بنائی گئی تھی جہاں پانچ سو افراد سما سکتے ہیں۔
