نابلس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی جیل میں قید فلسطینیÂ طلباء کے پسندیدہÂ استا پروفیسر اور نابلس کی جامعہ النجاح میں فزکس کے استادÂ عصام راشد الاشقر کو اسرائیلی فوج نے 16 ماہ قید کے بعد رہا کردیا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق 57 سالہ پروفیسر اور فلسطینی طلباء کے پسندیدہ استاد کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کو گذشتہ روز جیل سے رہا کیا یا جس کے بعد وہ نابلس شہر میں اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔ادھر اسیران میڈیا سینٹر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ پروفیسر عصام الاشقر کی صحت خراب ہےاور وہ ایک سے زائد امراض کا شکار ہونے کے باوجود صیہونی جیل میں قید وبند کی صعوبتیں اٹھا رہے ہیں۔
خیال رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر طولکرم سے تعلق رکھنے والے پروفیسر عصام الاشقر چھ بچوں کے باپ ہیں۔ وہ اردن کی یرموک یونیورسٹی سے فزکش کے مضمون میں فارغ التحصیل ہیں۔ وہ سنہ 1982ء سے 1994ء تک نابلس کی النجاح یونیورسٹی میں لیکچرار کے عہدے پر تعینات ہوئے۔ اس کے بعد وہ امریکا چلے گئے جہاں انہوں نےÂ فزکس کے مضمون میں پی ایچ ڈی کیا۔ سنہ 1990ء میں دوبارہ واپس آئے اور جامعہ النجاح میں تدریسی خدمات انجام دینا شروع کیں۔ پروفیسر الاشقر کا شمار فلسطین کے باصلاحیت اور طلباء کے انتہائی پسندیدہ اور شفیق اساتذہ میں ہوتا ہے۔
ان کی گرفتاری اور اسرائیلی جیل میں قید فلسطینی طلباء کو زیور علم سے محروم رکھنے کی گھناؤنی صیہونی سازش ہے۔
