رام اللہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے عالمی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک سولہ سالہ فلسطینی بچے کو تین ماہ قید با مشقت کی سزا کا حکم دیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوجی عدالت کی طرف سے عناتا قصبے کے رہائشی سولہ سالہ نور کاید عیسیٰ کو بدنام زمانہ ’عوفر‘جیل منتقل کردیا گیا ہے۔ عیسیٰ کی سزا نومبر کے اوائل میں ختم ہوگی۔
کلب برائے اسیران کے وکیل محمود الحلبی نے بتایا کہ نور کاید عیسیٰ کی یہ دوسری بار گرفتاری ہے۔ اس سے قبل وہ چار ماہ تک اسرائیلی زندانوں میں انتظامی حراست کی پالیسی کے تحت قید کاٹ چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نور کاید عیسیٰ پر اسرائیلی پولیس نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’فیس بک‘ پر اسرائیل کے خلاف نفرت پھیلانے کا الزام عاید کیا گیا۔ اسی الزام کے تحت اسے تین ماہ کے لیے پابند سلاسل کیا گیا ہے۔
