فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اردن کے سرکاری ٹی وی کے پروگرام ’عین القدس‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں احمد الرویضی نے کہا کہ صہیونی انتظامیہ نے بیت المقدس میں ’او آئی سی‘ کے مندوبین کو تعمیرو مرمت سے سختی سے روک دیا ہے۔ مشرقی بیت المقدس کا 12 فی صد رقبہ فلسطینیوں کو دیا جا رہا ہے جب کہ 42 فی صد رقبے پر صہیونی بستیاں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ باقی اراضی صہیونی پارکوں کے نام پر غصب کی گئی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں الرویضی نے کہا نہ صہیونی ریاست نے سنہ 1967ء کے بعد اب تک بیت المقدس کی 2600 دونم اراضی توراتی پارکوں کے لیے غصب کی۔ ان میں سات پارک وادی حلوہ، جبل المکبر، وادی الجوز، الصوانیہ، جبل زیتون، العیسویہ، جبل الطور، جورۃ العناب، باب الخلیل اور باب الساھرہ میں تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
