مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ نے بتایا ہے کہ اسرائیلی حکام نے ایک 14 سالہ فلسطینی بچی کو مقبوضہ مغربی کنارے سے غزہ کی پٹی بے دخل کردیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے چودہ سالہ فلسطینی لڑکی کو دو ہفتے قبل حراست میں لیا تھا۔ تین دن تک حراست میں رکھنے کے بعد اسے رہا کرنے کے بعد غزہ کی سرحدی گزرگاہ ایریز سے غزہ بے دخل کردیا گیا۔اسرائیلی انسانی حقوق گروپ ’ھمیو کیڈ‘ (مرکز دفاع برائے فرد) نے بتایا کہ غزہ بے دخل کی گئی بچی کا نام غادہ ہے اور اس کی عمر چودہ سال ہے۔ وہ غرب اردن کے الرام قصبے کی رہائشی ہے۔ اسرائیلی فوج نے اسے تیرہ جنوری کو حراست میں لیا۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ فلسطینی بچی کو ممنوعہ علاقے سے گرفتار کیا گیا جس کے بعد اسے اس کے گھر بھیجنے کے بجائے غزہ کی پٹی میں دھکیل دیا گیا۔
انسانی حقوق کے گروپ کے مطابق بچی کو تا حال غرب اردن میں واپس اس کے گھر نہیں آنے دیا گیا۔
