مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی ریاست نے مقبوضہ بیت المقدس میں بسنے والے فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستی میں اضافہ کرتے ہوئے القدس کے 12 فلسطینی باشندوں کو شہر سے بے دخل کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی ریاست نے بیت المقدس کے باشندوں کو وہاں سے نکال باہر کرنے کے لیے منظور کردہ نام نہاد قانون پر عمل درآمد شروع کردیا ہے۔گذشتہ روز اسرائیلی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ القدس کے بارہ فلسطینیوں کی شہریت ختم کرنے پرغور کررہی ہے۔ان میں سے بیشتر فلسطینی اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔
اسرائیلی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر داخلہ اریہ ادرعی 12 فلسطینی سماجی کارکنوں کو شہر سے بے دخل کرنے پر غور کررہے ہیں۔
خیال رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں اسرائیلی کنیسٹ نے ایک متنازع قانون منظور کیا تھا جس میں وزیر داخلہ کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ کسی بھی فلسطینی کی القدس کی شہریت منسوخ کرسکتے ہیں۔ نام نہاد دہشت گردی کے الزامات کے تحت فلسطینیوں کی القدس بدری کا یہ ایک نیا حربہ ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیر داخلہ نے فلسطینیوں کی القدس بدری کے قانون میں ترمیم کی سفارش کی ہے تاکہ انہیں فلسطینیوں کی القدس بدری کے لیے مزید اختیارات حاصل ہوسکیں۔
اس فیصلے کے تحت بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے فلسطینی پارلیمنٹ کے ارکان محمد ابو طیر، احمد عطون، محمد طوطح، سابق وزیر برائے القدس امور خالد ابو عرفہ، محمد ابو کاف، ولید الاطرش، عبد دویکات، عبد دویکات، بلال ابو غانم، وایل محمود محمد علی قاسم، وسام سعید موسیٰ عباسی، محمد اسحاق شحادہ، عودہ اور علاء الدین محمد عباسی کو بے دخل کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
