رام اللہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکام نے 11 سال سے پابند سلاسل اسلامی جہاد کے ایک نوجوان رہنما کو گذشتہ روز قید کی سزا پوری ہونے کے بعد رہا کردیا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شہداء فاؤنڈیشن کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ 34 سالہ ایاس عبدالرفاعی کو گذشتہ روز سزا کی مدت پوری ہونے کے بعد رہا کیا گیا۔ الرفاعی کا رہائشی تعلق مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ کے مضافاتی علاقے کفر عین سے ہے۔الرفاعی کو اسرائیلی فوج نے 14 اگست 2006ء کو اسلامی جہاد سے تعلق اور مزاحمتی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں 8 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ بعد ازاں اسرائیلی پراسیکیوٹر نے سزا کو کم قرار دیتے ہوئے اس میں اضافے کی درخواست دی تھی۔
الرفاعی پر دوبارہ مقدمہ چلایا گیا اور عدالت نے انہیں گیارہ سال قید کی سزا سنائی۔
اسیر الرفاعی قید کے دوران بڑی آنت کی تکلیف اور معدے کے امراض کا شکار رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ صہیونی جیل انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کے باعث اس کی بیماری میں مزید شدت آگئی تھی جس کے نتیجے میں اس کا وزن 30 کلو گرام کم ہوا ہے۔ بیماری کے باعث اس کے نظام تنفس پربھی منفی اثرات پڑے اور پورا جسم بری طرح متاثر ہوا۔
