فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عبرانی اخبار ’یسرائیل ھیوم‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ساتھ محمود عباس اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سے ملنا چاہتے ہیں۔ پہلے صدر عباس نے بھی یہ تجویز مان لی تھی مگر اب وہ اس تجویز کو قبول نہیں کرتے۔
عبرانی اخبار کے مطابق امریکی انتظامیہ کی طرف سے محمود عباس پر دباؤ بھی ہے کہ وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسرائیل اور بنجمن نیتن یاھو کو تنقید کا نشانہ نہیں بنائیں گے۔ اسی طرح اگر فلسطینی صدر علاحدگی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملنا چاہتے ہیں تو یہ ملاقات جنرل اسمبلی کے اجلاس سے محمود عباس کے خطاب کے بعد ہوگی تاکہ امریکی صدر یہ دیکھ سکیں کہ آیا اجلاس کے دوران محمود عباس نے اسرائیل کے بارے میں کس طرح کا موقف اپنایا ہے۔
اسرائیلی اخبار نے فلسطینی اتھارٹی کے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی انتظامیہ صدر عباس، نیتن یاھو اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ساتھ ملاقات پر مصر ہے تاہم فلسطینیوں کا مطالبہ ہے کہ پہلے صدر محمود عباس اور ڈونلڈ ٹرمپ آپس میں ملاقات کریں گے۔
دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے اخبارات میں آنے والی ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ وہ صدر عباس پر کوئی دباؤ ڈال رہے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن فلسطینی انتظامیہ اور اسرائیل کے درمیان بامقصد بات چیت کی بحالی کا خواہش مند ہے۔ تاہم وہ یہ بھی توقع رکھتا ہے کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران صدر عباس اور بنجمن نیتن یاھو ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ انداز نہیں اپنائیں گے۔
